ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / طالبان کابل پرقابض، عام معافی کا اعلان، عبوری حکومت پرغور

طالبان کابل پرقابض، عام معافی کا اعلان، عبوری حکومت پرغور

Mon, 16 Aug 2021 12:15:33    S.O. News Service

کابل، 16؍اگست (ایس او نیوز؍ایجنسی) 2001ء میں امریکی حملے کے بعد اقتدار سے محروم ہوجانے والے طالبان جنگجو ۲۰؍ سال بعد اتوار کوایک بار پھر فاتح کے حیثیت سے کابل میں داخل ہوگئے جبکہ ملک کے صدر اشرف غنی  اپنے اہل خانہ کے ساتھ تاجکستان فرار ہوگئے ہیں۔اس کی تصدیق افغانستان کی اعلیٰ قومی مصالحتی کونسل کے چیئرمین عبداللہ عبداللہ نے سوشل میڈیا پر جاری کئے گئے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کی ہے۔   دوسری طرف طالبان  نے کابل میں عام معافی کا اعلان کیا ہے اور اپنے جنگجوؤں کو تشدد سے گریز کی ہدایت دی ہے۔ 

 طالبان نے پہلے ہی اعلان کردیاتھا کہ وہ کابل میں پرامن اقتدار کی منتقلی چاہتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ گھنٹوں کابل کا محاصرہ کئے رہنے کے باوجود جنگجوؤں  نے دارالحکومت پر حملہ نہیں کیا۔   اقتدار کی منتقلی اور عبوری حکومت کے قیام  کے تعلق سے گفت وشنید کے درمیان ہی افغان  صدر اشرف غنی کے فرار ہوجانے  کے بعد طالبان نے اپنے جنگجوؤں کو اس اندیشے کے پیش نظر کابل  میں داخل ہونے اور سیکوریٹی سنبھال لینے کی ہدایت دی  کہ کہیں حکومت کی عدم موجودگی میں شہر میں افراتفری اورلوٹ مار کا ماحول نہ پیدا ہوجائے۔اس کی تصدیق طالبان کے ترجمان  ذبیح اللہ مجاہد نے کی ہے۔ 

 طالبان نے جلال آباد اور مزار شریف کو فتح کرنے کے بعد اتوار کی صبح سے ہی کابل کا گھیراؤ کرلیا تھا جس کے بعد صدر اشرف غنی ملک چھوڑ کر تاجکستان چلے گئے تاہم صدارتی محل میں اب بھی اقتدار کی پُرامن منتقلی کیلئے طالبان اور کابل حکومت کے دیگر ذمہ داران   کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ عبوری حکومت کی قیادت کیلئے سابق وزیر داخلہ احمد علی جلالی کے نام پر غور کیا جا رہا ہے۔ اشرف غنی کے ملک سے فرار ہونے کے بعد طالبان  کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ’’ ہم نے اپنے جنگجوؤں کو کابل میں داخل ہونے کی اجازت دیدی ہے کیوں کہ افغان فوج اور پولیس کئی مقامات سے چلے گئے ہیں اور دارالحکومت میں لوٹ مار کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔‘‘

 جلال آباد اور مزار شریف کو فتح کرنے کے بعد ہی طالبان  جنگجو کابل پہنچ گئے تھے مگر وہ شہر کے  داخلی دروازوں  پررک گئے اور اپنے   امیر کے احکامات کے منتظر رہے۔ دوسری طرف  افغان فوج کی جانب سے مزاحمت نہیں کی گئی۔عینی شاہدین نے عالمی میڈیا کو بتایا کہ دارالحکومت میں طالبان جنگجوؤں کو بہت ہی معمولی مزاحمت کا سامنا رہا ہے۔ کابل یونیورسٹی اتور کی صبح ہی خالی کردی گئی تھی اور تمام طالبات گھروں کو چلی گئیں۔ 

 افغانستان میں طالبان   کے ترجمان نے پہلے ہی اعلان کردیاتھا کہ وہ دارالحکومت کو طاقت کے ذریعے فتح کرنے کا  ارادہ  نہیں رکھتے اور نہ ہی کسی سے انتقام لیں گے۔   طالبان نے عام معافی کا اعلان کرتے ہوئے اپنے جنگجوؤں کو بھی ہدایت دی ہے کہ جولوگ شہر سے نکل جانا چاہتے ہیں، انہیں پرامن طریقے سے نکلنے دیا جائے۔  طالبان لیڈرشپ نے واضح پیغام دیا ہے کہ ’’ہم کابل امن کے پیغام کے ساتھ آئے ہیں۔‘‘

اس بیچ طالبان کے کابل میں موجود کسی بھی غیر ملکی سفارتخانہ کو بھی نقصان نہیں پہنچایا ہے۔ اس کے باوجود مختلف ممالک اپنے شہریوں او رسفارتی عملے کو کابل سے  باہر نکالنے کیلئے سرگرم ہوگئے ہیں۔  


Share: